اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 01:19
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک

مارچ 2024

 قوموں کو اپنے نظریاتی خد و خال بنانے اور ان کو اجاگر کرنے کے لیے صدیوں کا سفر درکار ہوتا ہے ۔ تاریخ میں وہی قومیں عظیم قومیں بن کر سامنے آئیں جو بڑے گردابوں اور طوفانوں کو سہہ کر اور ان کا مقابلہ کرکے ڈٹ کر کھڑی رہیں ۔  ایسٹ انڈیا کمپنی کے تصورِ حکمرانی والے مکار انگریز حکمرانوں کو اگرچہ برصغیر کے مسلمانوں اور ان کے دوقومی نظریے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے لیکن ان کے دلوں سے مسلمانوں کا خوف کبھی دور نہیں ہوسکا ۔ وہ ہندوئوں کو آج بھی مسلمانوں پر ترجیح دیتے ہیں اور انہیں اپنا حصہ سمجھتے ہیں ۔ خاص طور پر بنیاد پرست انگریزوں اور انتہا پسند ہندوئوں کے بیچ مسلمان دشمنی آج بھی مشترکہ بندھن ہے ۔ ایک تو اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشی جنگیں کرکے اور مسلمانوں سے اقتدار چھین کر برصغیر پر قابض ہوئے اور دوسرا یہ کہ 1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں نے ہی ان کے خلاف لڑی تھی ۔  یہی وجہ تھی کہ تحریک آزادی کے بعد  تقسیم کے وقت مسلمان مملکت کے خلاف طرح طرح کی بارودی سرنگیں پہلے سے ہی بچھا کر رکھ دی گئی  تھیں ۔ 



 بنیاد پرست انگریزوں کے ساتھ انتہا پسند ہندو بھی تحریک ِ آزادی کے نتیجے میں بننے والے آزاد ملک کو ہندوؤں کا ملک سمجھ رہے تھے جس میں مسلمانوں ، سکھوں اور عیسائیوں کو انگریزوں کے تسلط سے نکل کر ہندوئوں کے تسلط میں جانا تھا ۔ اگرچہ مؤرخین تقسیم کی نوعیت کو بدلتے ہوئے اس بٹوارے کی وجوہات کو کانگریس کے تسلط کی خواہش اور نہرو کی منصوبہ بندی قرار دیتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قائدِ اعظم بھی بھانپ گئے تھے کہ کانگریس، ہندوستان کی انگریزوں سے آزادی کا مطلب محض ہندوں کی آزادی سمجھتے ہیں اور ایک ایسا آزاد ہندوستان قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی قومی زبان ہندی ہوگی اور اس میں گائے کی قربانی پر پابندی ہوگی ۔ سو قائد ِ اعظم نے صاف صاف کہہ دیا کہ مسلمان اور ہندو، دومختلف العقیدہ قومیں ہیں جن کا دین اور کلچر مختلف ہے اور یہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ 
ایک تاثر یہ بھی ہے کہ یہ قرارداد مطالبہ پاکستان کی جانب پہلا قدم تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم اس منصوبے سے، جو اس سے پہلے چوہدری رحمت علی دے چکے تھے، پوری طرح متفق ہوچکے تھے بلکہ مجھے کہنے دیجیے کہ یہ قائد اعظم کی زیرک لیڈرشپ تھی کہ ان کی سوچ اور نظریہ ان کے رفقائے کار کے انگ انگ سے پھوٹ رہا تھا ۔  انہوں نے کانگریس کے سازشی منصوبے کو بھانپتے ہوئے ایک آزاد مسلمان مملکت کے تصور کو حتمی فیصلے میں بدل دیا ۔ قائد ِ اعظم کی سوچ اور ویژن کے مطابق درج ذیل نکات میں پوری ایک کتاب کو سمیٹا جاسکتا ہے ۔۔۔۔
1۔ پاکستان کا قیام بنیادی طور پر مسلمانان ہند کے حقوق اور مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے آخری آپشن کے طورپر عمل میں آیا۔ اس سلسلے میں 'اسلام' بیشتر ایک تہذیبی عامل کی حیثیت سے محرک رہا۔
2۔ مذہب کا کٹر مولویانہ فہم و تصور علامہ اقبال اور قائد اعظم کے پیش نظر نہ تھا۔
3۔ قائد اعظم اپنے سیکولر اپروچ کے ساتھ مذہب کی بجائے دین کے اعلی اقدار و اخلاقی روایات کی اہمیت و افادیت کے بھی خلوص دل سے قائل تھے۔
4۔ قائد اعظم اگر کچھ سال مزید زندہ رہتے تو قوی امید ہو سکتی تھی کہ وہ اپنی خدا داد صلاحیت، تدبر، حقیقت پسندی اور خلوص کی بنیاد پر پاکستان کے لیے ایک ایسا دستوری اور انتظامی نظام مرتب کرواتے جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ دین کے اعلی اقدار و روایات کا متوازن امتزاج ہوتا۔ اور یوں پاکستان ایک ایسی جدید فلاحی مسلمان ریاست بنتا جو روشن خیال بھی ہوتا اور یہاں کے کلچر اور اخلاقی و  روحانی اقدار کا امین بھی ہوتا۔ آج بھی قائد اعظم کا پاکستان کے جدید اسلامی فلاحی ریاست ہونے کا تصور ہمارے لیے مشعل راہ اور وے فارورڈ ہے ۔ 
 قائداعظم جیسا صاحب بصیرت اور صاحب استقامت لیڈر ٹھان چکا تھا کہ اب مسلمانوں کی الگ ریاست بنے گی اور وہ یہ بھی طے کرچکے تھے کہ اس کے خدوخال کیا ہونگے جوکہ اوپر نکات کی صورت میں بیان کیے جا چکے ہیں ۔ 
بیگم شائستہ اکرام اللہ اپنی کتاب( فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ )میں بھی لکھتی ہیں کہ اکثر مسلمانوں کے نزدیک پاکستان ایک تصور تھا، حقیقت نہ تھی۔ بڑے بڑے مسلمان لیڈروں کا بھی یہ خیال تھا کہ کسی قسم کا باہمی سمجھوتہ ہو جائے گا اور وہ متحدہ ہندوستان کے اندر اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھ سکیں گے۔شروع شروع میں قائد اعظم کا بھی یہی خیال تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار اکتوبر 1941 میں ان سے ملی تو انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا آئین ہمارے لیے مسائل کا بہترین حل ہے۔ قرار داد پاکستان کے سات سال بعد تک ایک طرف برطانوی حکومت اور دوسری طرف کانگریس سے وہ باہمی سمجھوتے کی بات کرتے رہے اور اس دوران میں ایک سے زائد بار تقریباً سمجھوتہ ہو بھی گیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو ٹوک بٹوارہ نہیں چاہتے تھے۔ باہمی سمجھوتے میں ناکامی ہوئی تو اس کی ذمہ داری قائد اعظم پر نہیں کانگریسی لیڈروں کی تنگ دلی اور تعصب پر تھی۔
قائد اعظم کے اسی مؤقف کی تائید'' مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا'' از زاہد چوہدری و حسن جعفری کے صفحہ 325 پر بھی ہوتی ہے جس میں 14 اگست 1947 کو کراچی کے ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب قائد اعظم آزادی کی تقریب میں تشریف لائے تو نیویارک ٹائمز کے نمائندہ نے انہیں کہا کہ'' میں آپ کومبارکباد پیش کرتا ہوں آخر کار آپ نے پاکستان حاصل کر ہی لیا۔''قائد اعظم نے یہ سن کر کہا: '' میں نے اکیلے پاکستان حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں میرا ایک روپے میں دو آنے کا حصہ تھا۔ اس تگ و دو میں برصغیر کی مسلم قوم کا حصہ روپے میں چھ آنے کے برابر تھا اور قیام پاکستان میں اس برصغیر کی ہندو قوم کا حصہ روپے میں آٹھ آنے کے برابر تھا۔''
شوکت علی شاہ 14 اگست 2018 کو نوائے وقت میں شائع ہونے والے کالم بعنوان  'قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان' میں رقم طراز ہیں ، برصغیر کے مسلمانوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا پالا دو شیطانوں سے پڑا تھا۔ ایک وہ جو اپنی ایمپائر کے ڈوبتے ہوئے سورج کو بڑی حیرت اور حسرت سے تک رہا تھا اور دوسرا ہزار سال کی غلامی کا بدلہ چکانے کیلئے سنہری سازشوں کے جال بن رہا تھا۔ انگریز موجودہ مسلمانوں سے پرخاش رکھتا تھا۔ ایک تو اقتدار اس نے ان سے ہتھیایا تھا اور دوسرا 1857کی جنگ آزادی بھی بنیادی طورپر انہوں نے لڑی تھی۔ دراصل جب سلاطین طاس ورباب کے رسیا ہو جائیں اور رنگیلے ایں دفتر بے معنی غرق مئے ناب اَولی، کا ورد کرنے لگیں تو شکست  ذلت اور رسوائی مقدر بن جاتی ہے۔
انگریز شدید خواہش اور ہندو تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کا قیام نہ روک سکے۔ آزادی کی راہ میں ایک قلزم خوں تھا جسے عبور کرکے ہم یہاں تک پہنچے۔ ان گنت لوگ سربریدہ ہوئے۔ جوان جسم خاک اور خون میں غلطیدہ ہوئے۔ بوڑھے باپوں کی کمریں کمان بنیں، عصمتیں لٹیں، مائوں نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے شیرخوار بچوں کو نوک نیزہ پر سوار دیکھا  ۔
 اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی جن مسائل کا شکار ہے، یہ امتحان اور یہ گرداب اسی لیے ہیں کہ ہمیں ان سب سے نکل کر ایک عظیم قوم اور پاکستان کو ایک عظیم ملک بننا ہے ۔ وطن عزیز پر آنے والی ہر مشکل ہمارے حوصلوں کو بلند کرتی  اور ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ابھی ہماری جدوجہد ختم نہیں ہوئی ۔ دوسری طرف بھارت میں آباد مسلمانوں کی حالت ِ زار دیکھنے والی ہے ۔ ہم اپنی تمام تر اندرونی لڑائیوں اور اختلافات کے باوجود اپنے ملک، اپنے وطن میں بیٹھے ہیں۔ آج کیبھارت میں رہنے والے مسلمان آئے دن ہندو بربریت کا شکار ہوتے ہیں ۔ بھارت سے جاتے جاتے جو استعمار مسلمانوں کو دانستہ مسائل میں پھنسا کر گیا تھا وہ اب اس ایٹمی طاقت پاکستان کو پنپتے کیسے دیکھ سکتا ہے ۔ لیکن یہ خدائے بزرگ و برتر کی عطا کی گئی ریاست ہے جو تمام تر نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے پورے وقار کے ساتھ سربلند رہے گی اور یقینا قیام پاکستان کا سفر استحکام پاکستان تک جاری رہے گا ۔ ہمیں بحیثیت ِ قوم یہ بھی پتہ ہے کہ ابھی نہ جانے کتنے بھنور ، کتنے طوفان راہ میں حائل ہونے ہیں اور ہمیں اپنے رب پر ایمان اور اپنے وطن سے محبت کے سہارے ان سب سے گزر کر ترقی کی منازل طے کرنا ہیں ۔ 

  سفر کٹھن ہے مگر ہمتیں جواں اپنی 
  بنا کے سب کو دکھائیں گے کہکشاں اپنی 

  رکاوٹیں بھی ہیں واقف ہماری ٹھوکروں سے 
  ہے منزلوں کو بھی سب یاد داستاں  اپنی 
  
  وطن کے بخت میں حال نہیں ہے حد ِ نگہ 
  ہمیں پتہ ہے، ہے رکھنی نظر کہاں اپنی 

یہ ہم وہی ہیں جو  پرچم بلند رکھتے ہیں 
ہمی تو ہیں جو فدا کرتے آئے جاں اپنی 

ہمیشہ قائم و دائم رہے گا پاکستان 
ہمیشہ عالی  و ارفع رہے گی شاں اپنی 


 مضمون نگار معروف شاعر، مصنف اور تجزیہ کار ہیں
[email protected]