اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
جمعہ، فروری 23، 2024 00:48
Advertisements

محمد ضیاءاللہ محسن

Advertisements

ہلال کڈز اردو

ہم آزادی کے متوالے

فروری 2024

سری نگر کے نواحی دیہاتی علاقے کے باہر ایک کچی سڑک پر فوجی گاڑی کھڑی تھی۔ چند فوجی جوان اس گاڑی سے نکل کر سڑک پر آئے اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ وہ اپنی کامیاب کارروائی کے بعد گائوں بلواڑہ سے باہر آکررُک گئے تھے۔اب وہ قہقہے لگاتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارے جارہے تھے۔ ان کے قریب ہی ایک قد آور درخت موجود تھا ۔انھیں یہاں کھڑے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ گائوں سے چند بچے شورمچاتے ہوئے سڑک پر آن دھمکے۔ وہ شاید چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔
 دور کھڑے فوجیوں نے ایک نظر بچوں کو دیکھا اور پھر باتوں میں مگن ہوگئے۔ ایسے میں ایک بچہ ہاتھوں میں غلیل لیے دبے پائوں فوجیوں کی جانب بڑھنے لگا۔ فوجی اس بات سے لاعلم تھے کہ ایک چھوٹا بچہ ان کے عقب میں آن کھڑا ہوا ہے۔ درخت کے عین نیچے آکر بچہ گاڑی کے پیچھے چھپ گیا ۔ وہ اپنی غلیل سے ایک فوجی کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ مگر اچانک اس کی نگاہ درخت کے اوپر گئی ، خوشی سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ آیا، جس کی مدد سے وہ ایک ہی وار میں بہتر نتیجہ حاصل کرسکتا تھا۔ حماد نامی اس بچے نے ایک پتھراٹھایا ،اسے غلیل کی ربڑ میں فٹ کیا اور غلیل کا رخ درخت کی طرف کرکے نشانہ تاک لیا۔ قریب کھڑے فوجی اپنے عقب میں ہونے والی اس تمام کارروائی سے لاعلم تھے۔ حماد نے ایک دم پتھرچھوڑا جو سیدھا جاکر شہد کی مکھیوں کے چھتے پر لگا۔ یہ کام کرتے ہی اس نے پوری رفتار کے ساتھ گاؤں کی جانب دوڑ لگا دی۔ وہاں کھڑے بھارتی فوجی اس بچے کو دوڑتا ہوا دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئے لیکن جیسے ہی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ان کے کانوں میں پڑی تو وہ ساری بات سمجھ گئے۔ مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
شہد کی مکھیوں نے ان پر اس شدت کے ساتھ حملہ کیا تھا کہ انہیں بھاگ کر اِدھر اُدھر چھپنے یا گاڑی میں بیٹھنے کاموقع ہی نہ ملا۔ وہ اپنے منہ اور کانوں پرتیزی سے ہاتھ مارتے ہوئے بپھری ہوئی مکھیوں سے بچنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی میں بیٹھتے یا کسی محفوظ جگہ پر پہنچتے مکھیاں ان کے چہروں کا حلیہ بگاڑ چکی تھیں۔
مکھیوں کے حملے کے بعد حماد کے ساتھ ساتھ گلی میں کھیلتے ہوئے دیگر بچے بھی اپنے گھروں کی طرف بھاگ چکے تھے۔کچھ دیر بعدتھوڑا سکون ہوا تو فوجیوں نے سکھ کا سانس لیا اور بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئے ۔ کسی کو چار مکھیوں نے کاٹا تھا تو کسی کو دو مکھیوں نے۔ رفتہ رفتہ ان سب کے چہرے سوجنا، پھولنا اور سرخ ہونا شروع ہوگئےتھے۔ سب کے چہروں پر تکلیف کی شد ت کے آثار نمایاں تھے۔ایک چھوٹا بچہ ان کو ناکوں چنے چبوا چکا تھا ۔ بچے نے اُن سے خوب بدلہ لیا تھا۔ 
دراصل واقعہ کچھ یوں تھا کہ اس دن بلواڑہ کے نواح میں کچی سڑک سےفوجیوں کا ایک قافلہ گزرا تھاجسے پورے علاقے میں جگہ جگہ ناکہ بندی کرنا تھی کیونکہ اگلی صبح سری نگر میں ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہونے جا رہی تھی۔ اس میں پوری دنیا سے کچھ صحافی اورانسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے شرکت کرنے آرہے تھے ۔ اس تقریب میں انڈین حکومت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنا سافٹ امیج دنیا کو دکھانا چاہتی تھی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے پوری وادی سے کچھ منتخب بچوں کے درمیان آرٹ ورک کا مقابلہ کروایا تھا۔اسی مقابلےکے نتائج اور بچوں کی پینٹنگز کی نمائش کرکے بھارتی حکومت غیر ملکی صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ’’سب اچھا‘‘کی رپورٹ دینا چاہتی تھی ۔اس مقصد کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاچکے تھے۔ اس نمائش کی رپورٹ اور بچوں کی پینٹنگز کو امن کی آواز کے طور پر پوری دنیا میں دکھایا جانا تھا۔
 اسی لیے تقریب سے ایک دن قبل سری نگرمیں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا تھااور وہاں فوجی گاڑیاں گشت کررہی تھیں۔ جب وہاں سے فوجی گاڑیوں کا قافلہ گزرا تو ٹیوشن پڑھ کر گھر واپس آتی ہوئی میٹرک کی طالبہ فاخرہ گاڑیوں کی قطار دیکھ کر ایک طرف ہوگئی ۔ گزرنے والی ہر گاڑی سے اس پر آوازیں کسی  جانے لگیں، کوئی اس پر پانی پھینک رہا تھا تو کسی نے کنکر اٹھا کر اس کا نشانہ لیا تھا۔ کوئی فاخرہ کو اپنی بھدی آواز کے سروں سے فلمی گیتوں کے ذریعے ٹارچر کرنے لگا ۔ ایک شرابی فوجی نے تو فاخرہ کی طرف پتھر پھینکا جو اس کے سر میں جا لگا۔یہ سب کچھ ایک جوان اور باحیا لڑکی کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔پھر بھی وہ صبر کے ساتھ تیز تیز قدم چلتی ہوئی گھر جا پہنچی۔ مگراس سے پہلے ہی اسے ٹارچر کرنے کی خبر گلی کے بچوں کے ذریعے اس کے باپ تک پہنچ چکی تھی۔
ایک ایک کرکے سارا قافلہ آگے نکل گیا ۔ البتہ میجر وکرم گپتا کی ٹیم کو کچھ دیر کے لیے یہاں رک کر آس پاس کا جائزہ لینا تھا۔اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک ادھیڑ عمر آدمی غصے سے بپھرا ہوا ان کی گاڑی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ فاخرہ کا باپ ہے۔ یہ جاننا تھا کہ فوجیوں نے بغیر کچھ وقفہ کیے اُسے ڈنڈوں اور بوٹوں سے پیٹنا شروع کردیا۔ فاخرہ کا باپ بڑی مشکل سے جان چھڑا کر گھر کو پلٹاتھا۔ 
ابھی میجر گپتا اور اس کی ٹیم گاڑی کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے کہ فاخرہ کے ننھے بھائی نے چپکے سے شہد کی مکھیوں کا نشانہ لیااور مکھیوں نے فوجیوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا تھا۔فاخرہ سے چھوٹا حماد واقعی بہت بہادر اور غیرت مند تھا۔اس نے اپنی بہن اور باپ کا بدلہ لے لیاتھا۔اب غصے کی آگ میں جلتے ہوئے فوجی اپنی جیپ کا رخ گائوں بلواڑہ کی جانب موڑ چکے تھے۔ گائوں میں داخل ہوتے ہی انھوں نے بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کا لحاظ کیے بغیر اندھا دھند فائرنگ کرنی شروع کردی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بارش ہورہی ہو۔ یہ پیلٹ گن کی باریک باریک گولیاں تھیں جو ننھے جسموں کو چھلنی کیے جا رہی تھیں ۔  گائوں میں ایک دم کہرام بپا ہوگیا تھا۔ بچوں اور عورتوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔دیکھتےہی دیکھتے حماد کے گھر کا دروازہ توڑ کراسے باہر نکالا گیااور پھراس پر خوب تشدد کیاگیا ۔ گائوں کے کئی بڑوں اور بوڑھوں پرلاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ ننھے منے جسموں کو پیلٹ گنوں سے بھون دیا گیا تھا۔
دوسرے روز سری نگر کے بڑے سرکاری ہال میں تقریب کا آغاز ہوا ،جسے چاروں طرف سے فوجیوں نے گھیر رکھا تھا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور صرف متعلقہ لوگوں کو ہی ہال میں داخلے کی اجازت تھی۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بطور مہمان بلائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ، بھارت کا وفاقی وزیر داخلہ اور چند دیگر وزراء کے ساتھ ساتھ ایجنسیوں کے کارندے بھی شامل تھے۔ وہاں ہر طرف کیمروں کی بھرمار تھی ،جن کی مدد سے کشمیر کا سافٹ امیج دنیا کو دکھایا جانا تھا۔
 ہر کوئی اپنی اپنی جگہ مستعد تھا۔ ایسے میں تقریب کے آغاز کا اعلان ہوا۔ رسمی کارروائی کے بعد جب پورے کشمیر سے اس مقابلے میں حصہ لینے والے بچوں اور بچیوں کے نام پکارے گئے تو ہر بچہ اپنا تصویری آرٹ ورک لیے اسٹیج کے سامنے آگیا۔  
پھرمقابلے میں شرکت کرنے والے بچوں کے نام پکارے جانے لگے۔ تالیوں کی گونج میں ہر بچہ اپنی پینٹنگ اٹھا ئے سٹیج پر آتا اور اس کو دونوں ہاتھوں سے اوپر کر کے شرکاء کو دکھاتا اورداد وصول کرتا۔ یوں سرکار کی طرف سے وادی کے دور دراز علاقوں سے آئے بچوں نے اپنا اپنا انعام بھی وصول کیا۔ کیمرے کی چکاچوند اس سارے منظر کو دنیا بھر میں دکھارہی تھی۔ٹی وی چینلز پر سب اچھا کی رپورٹ پیش کی جارہی تھی۔
اسی اثناء میں ایک نوجوان لڑکی اپنی نشست سے کھڑی ہوئی۔ تقریب کے میزبان نے وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ مجھے مقابلے کا تاخیر سے پتا چلا ہے،میں بھی اپنا آرٹ ورک پیش کرنا چاہتی ہوں مگرسکیورٹی پر مامور لوگوں نے لڑکی کو بیٹھ جانے کا اشارہ کیا ،یعنی انتظامیہ کی جانب سے اسے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ لڑکی نے انٹرنیشنل صحافیوں کی جانب دیکھ کر بڑے اعتماد سے انگریزی میں اپنی گزارش پیش کی تو صحافیوں اورانسانی حقوق کی تنظیموں کی خصوصی سفارش پر اس لڑکی کو اجازت دے دی گئی۔
لڑکی ڈائس پر آئی اور مائیک سنبھال کر گویا ہوئی :’’میرا نام فاخرہ ہے ،میں آپ سب کی مشکور ہوں جنھوں نے مجھے یہاں بات کرنے کا موقع دیا ۔میں پینٹنگ اور آرٹ ورک کا مقابلہ جیتنے والے بچوں کومبارک باد دیتی ہوں،میرے پاس بھی آرٹ کے کچھ نمونے ہیں ،مگر میں وہ آرٹ کے نمونے ہال میں نہیں لاسکتی ۔ اس کے لیے مجھے انسانی حقوق کی تنظیموں کا تعاون درکار ہوگا۔‘‘
 جیسے ہی فاخرہ نے یہ بات کی تو انتظامیہ پریشان ہوگئی۔سب حیران تھے کہ ایسا کیا ہے اس لڑکی کے پاس …  بہر حال انٹرنیشنل کمیونٹی کی مداخلت پر فاخرہ کو اجازت دے دی گئی ، اس کے ساتھ ہی وہ ہال سے باہر گئی ،پھر کچھ لمحوں بعد اس کے پیچھے پیچھے حماد اور دیگر بچوں کی ایک قطار تھی۔ سب بچوں کے چہرے چھلنی تھے۔ وہ اذیت سے کراہ رہے تھے۔ 
ایک دم سے تمام کیمرے ان بچوں کے چہروں کو فوکس کرنے لگے تھے ۔ یہ سب دیکھ کر انتظامیہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔سکیورٹی پر مامور افراد نے انھیں روکناچاہا ،مگرکیمروں کی لائٹوں کے سامنے وہ یہ کام کرنے سے قاصر رہے۔ 
فاخرہ نے دوبارہ مائیک سنبھالا اور گویا ہوئی : ’’ یہ آرٹ ورک میرا نہیں ، بلکہ ان لوگوں کا ہے جنھیں اپنا ہنرآزمانے کے لیے ننھے چہرے درکار ہوتے ہیں۔ان کے ہاتھوں کوئی بچہ محفوظ ہے اور نہ کسی لڑکی کی عزت …!‘‘ فاخرہ نے ہال میں بیٹھے بھارتی فوجیوں اور اہلکاروں کی طرف اشارہ  کیا ۔  وہ سبھی اپنے سوجھے ہوئے چہرے رومال میں چھپائے سرنیچا کیے بیٹھے تھے ۔
فاخرہ دوبارہ کہنے لگی : ’’البتہ ان کے چہروں پر بنا ’’آرٹ ورک ‘‘ جنھیں یہ شرمندگی سے چھپا رہے ہیں، میرے بہادر ننھے بھائی حماد کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بھی اپنے اوپر ظلم کا بدلہ اپنی بساط کے مطابق لیتے رہیں گے۔ہمارے پاس پیلٹ گنز تو نہیں ہیں مگر ہم دنیا کو بتاتے رہیں گے کہ مکھیوں کے کاٹنے سے زیادہ تکلیف پیلٹ گنز کی ہے بلکہ یہ ننھے منے بچوں کے لیے زندگی بھر کا روگ ہے۔پوری دنیا کو اس ظلم پر آواز اٹھانی چاہیے۔یہ جتنے مرضی آرٹ مقابلے کروا کر اپنا جعلی سافٹ امیج بنانے کی کوشش کرتے رہیں ، ہم حقیقت اور بھارتی ظلم و ستم پوری دنیا کے سامنے یوں ہی اجاگر کرتے رہیں گے ۔ ‘‘
فاخرہ کی بات انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں سنائی دے رہی تھی۔ وہ تقریب جو بھارتی حکومت نے اپنے سافٹ امیج کے لیے منعقد کی تھی،ان کے لیے وبالِ جان بن کر رسوائی کا سامان کرگئی تھی۔اسی دوران پورا ہال کشمیری بچوں کے نعروں سے گونج اٹھا تھا :
ہم آزادی کے متوالے
ہم کہساروں کے ہیں پالے
نہ جھکنے ،بکنے والے ہیں
جانباز ہیں اور جیالے ہیں 
ہم آزادی کے متوالے



 

مضمون 332 مرتبہ پڑھا گیا۔

محمد ضیاءاللہ محسن

Advertisements