اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
جمعہ، فروری 23، 2024 01:16
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات 
Advertisements

ہلال اردو

ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ)

فروری 2024

اگر آپ جڑواں شہروں کی سیر و تفریح کے ارادے سے اپنا رختِ سفر باندھ چکے ہیں تو یقیناً یہ تحریر آپ کے اس سفر کویادگار بنائے گی اورآپ جب کبھی اسلام آباد کی یادوں کے دریچے کھولیں گے تو آپ کو اپنی ثقافت کے رنگ ہر سُو بکھرے دکھائی دیں گے۔ ہم بات کررہے ہیں ایک ایسے ادارے کی جس کے شب و روز کی محنت نے ہمارے لیے اپنی ثقافت اور اپنی پہچان کوکھوجنے میں وہ کردار ادا کیا ہے جس کی بطورِ پاکستانی ہمیں شدید ضرورت تھی۔ '' نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج'' جسے زبانِ زدِ عام میں 'لوک ورثہ' کے نام سے جانا جاتا ہے، شہر کے وسط میںشکرپڑیاں روڈ پر واقع ادب و ثقافت کا ایک حسین امتزاج پیدا کرنے والا ادارہ ہے۔ اگر آپ جی ٹی روڈ ترنول سے اسلام آباد داخل ہوں تو 22 کلومیٹر کے فاصلے پر اور موٹر وے ترنول سے بذریعہ سری نگر ہائی وے 31کلو میٹرکے فاصلے پر واقع ہے ۔



لوک ورثہ میوزیم شکرپڑیاں پہاڑیوں میں واقع ہے اور آپ شکرپڑیاں ویو پوائنٹ اور پاکستان یادگار سے پیدل اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ متبادل طورپر گارڈن ایونیو جانے کے لے اسلام آباد ایکسپریس وے پر شکرپڑیاں انٹر چینج لیں، جو آپ کو براہِ راست میوزیم لے جائے گا۔گارڈن ایونیو شکرپڑیاں نیشنل پارک سے گزرتا ہوا پہاڑیوں کے دوسری جانب مری روڈ سے بھی ملتاہے۔ پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری بھی اسی راستے پر ہیریٹیج  میوزیم سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔
لوک ورثہ ادارے کا بنیادی مقصد تحقیق ، میوزیالوجی، لوک آلاتِ موسیقی، میڈیا پروگرامز، فیلڈ ریکارڈنگ اور پاکستان کے سب سے بڑے لوک میلے کا انعقاد کرنا ہے۔ ایک دہائی کے اندر لوک ورثہ نے لوک داستانوں کو ایک ایسے کمپلیکس میں تبدیل کیا ہے جس کی جڑیں تہذیب و ثقافت تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ہیریٹیج میوزیم 
 پاکستان نیشنل میوزیم آف ایتھنولوجی (ہیریٹیج میوزیم)جو پہلے لوک آرٹ میوزیم کے نام سے جانا جاتا تھا 1982 میں تقریباً بیس ہزار (20,000) مربع فٹ کے رقبے کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ تاہم، 2004 میں تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش کے بعد، دوبارہ میوزیم کا نام'' پاکستان نیشنل میوزیم آف ایتھنولوجی'' رکھا گیا جسے اب  ہیریٹیج میوزیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اب یہ میوزیم تقریباً 60,000 مربع فٹ جگہ پر محیط ہے جس میں نمائشی ہال، ایک لائبریری، ایک میڈیا سنٹر اور بہت کچھ ہے۔  
پاکستان نیشنل میوزیم آف ایتھنولوجی، لوک ورثہ میوزیم میں مجسموں ، مٹی کے برتنوں، دستکاریوں کا ایک بڑا ذخیرہ دکھایاگیا ہے جو پاکستان کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ملک کے تمام صوبوں اور یہاں بسنے والی نسلوں کی روایتی دستکاریاں شامل ہیں۔میوزیم کے مرکزی ہال میںنوادرات جس میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا، گندھارا، مہرگڑھ اور بھنبھور کی محبت بھری روایات کے رنگ نمایاں ہیں، کی نمائش شامل ہے۔ اس کے علاوہ نسلی قبائل جیسے مکران کے شیدی، پنجاب کے جاٹ، ہنزہ کے بروشو، سندھ کے کچھی قبائل اور کاغان کی ثقافت کے رنگ ،موضوعاتی ڈسپلے،کاریگر، بیلڈز اور رومانس،صوفی اور مزارات،ہال آف میوزک ہیریٹیج،ٹیکسٹائل اورکڑھائی،زیورات اور  دھاتی کام،فنِ تعمیرکا ہال اورلکڑی کے کام کے ہال جیسی نایاب اشیاء موجود ہیں۔
2013 میں صوفیوں اور مزارات کا ہال اس عجائب گھر میں قائم کیاگیا ۔ اس ہال میں صوفی بزرگ جیسے لعل شاہبازقلندر، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمت جیسے عظیم اکابر ین کے پورٹریٹ موجود ہیں۔ہال میں داتا گنج بخش، شاہ رُکنِ عالم اور بہاء الدین زکریا کے مزارات کی تصاویر بھی آویزاں ہیں۔ لوک ورثہ نے صوفی صفت بزرگ جیسے بُلھے شاہ ،سلطان باہو، وارث شاہ اور میاں لعل بخش کی کتابوںکی سی ڈیز بھی تیار کررکھی ہیں۔
لوک ورثہ کی خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہماری ثقافت کے رنگ نمایاں کرنے کے لیے اس کی دیواروں کو اس انداز سے پلستر کیاگیا ہے جیسے دیہاتی گھروں میں مٹی میں توڑی ملا کر کمروں اور دیواروں کی لپائی کی جاتی ہے۔
ورثہ میڈیا سنٹر
لوک ورثہ روایتی موسیقی اور ثقافت کے سب سے بڑے پبلشرز میں سے ایک ہے۔ یہاںآڈیو ویڈیو کیسٹس، سی ڈیز، وی سی ڈی کی ڈی وی ڈیز اور یو ٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی موجود ہیں۔ادارے کے تعاون سے تیار کردہ یہ مواد انٹر نیٹ پر، ویب سائٹس کے ساتھ ساتھ ورثہ کی دکانوں  میں بھی دستیاب ہے۔ لوک ورثہ نے قومی ثقافتی ورثے سے 36 ثقافتی دستاویزی فلموں (ڈاکومنٹری فلمز) اور500 آڈیو گانوں کا ایک سیٹ بھی مرتب کیا ہے۔
یہ میڈیا سنٹر، موبائل یونٹ اور ریکارڈنگ اینڈ فلمنگ یونٹ کے ساتھ مل کر دور دراز کے علاقوں میں رسمی روایات، لوک داستانوں اور تہواروں کے بصری ریکارڈ اور تصاویر بنانے کے لیے فیلڈ سروے بھی کرتا ہے۔  یہ سنٹر آڈیو، ویژول دستاویزات پر خاص کام کررہا ہے اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ممکن بنا رہا ہے۔
ورثہپبلیکیشن سنٹر
ہیریٹیج لائبریری پاکستان میں10,000 سے زیادہ کتابوں اور جرائدکے ذخیرے کا ایک نایاب نمونہ موجود ہے۔ یہ دنیا کی واحد پبلک لائبریری ہے جو پاکستان کی روایتی ثقافت کو ظاہرکرتی ہے اور قومی اور بین الاقوامی طلبائ، اسکالرز اور محققین کی خدمت کرتی ہے۔
ورثہ ریسرچ سنٹر
لوک ورثہ گائوں سے گائوں، شہر سے شہر، ضلع سے ضلع، پاکستان کا ثقافتی سروے اور اس کے زندہ ورثے کا انعقاد کرتا ہے۔ مواد اکٹھا کرنے اور روایات کو محفوظ کرنے کے لیے موبائل ریکارڈنگ اور فلم بندی کے یونٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔لوک ورثہ یونیسکو، ورلڈ کرافٹ کونسل، انٹر نیشنل کونسل آف میوزک، ایشین کلچر سنٹر برائے یونیسکو، انٹر نیشنل کونسل آف میوزیم، نورفک ناروے، کورین کلچر سنٹر اور اسی طرح کی دیگر تنظیموں کا الحاق شدہ رکن بھی ہے۔
سالانہ لوک میلہ
لوک  ورثہ اسلام آبادمیں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے گزشتہ چار دہائیوں سے'' لوک میلہ'' کے نام سے مشہور ایک میگا ثقافتی تقریب کا انعقاد کرتا ہے۔ اس میلے کا مقصد روایتی فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ میلہ تمام صوبوں کی فعال شرکت کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو فروغ دے کر قومی یکجہتی کو تقویت اور مضبوط کرتا ہے۔میلے میں ہر سال ملک بھر سے سیکڑوں ماسٹردستکار، لوک فنکار اور لوک رقص کے گروپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو لے کر شرکت کرتے ہیں۔
10 روزہ میلے کا بنیادی مقصدصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ہوتا ہے جس میں کاریگروں اور فنکاروں کی مہارت کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ لوک میلے کی تقریب میں روزانہ تقریباً 15,000 سے20,000 افراد آتے ہیں جن میں غیر ملکی، سفارت کار، اعلیٰ سطحی عہدیدار اور سیاسی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔
نیز اِس لوک میلے میںکٹھ پتلی شوز، لوک داستانوں کی پرفارمنس،لوک تھیٹر ،شامِ موسیقی،غیرملکی کرافٹ بازار،ایوارڈکی تقریبات اوردیگر ثقافتی پرکشش سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔
الغرضلوک ورثہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس میں برصغیر کے حالات و واقعات ، رہن سہن ، بودو باش، عبادت گاہوں، روایات، علوم وفنون اور ثقافت سمیت ضروری امور کا بھرپور احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ ادارہ جہاں معلومات کا خزانہ ہے وہیںایک شاندار تفریح گاہ بھی ہے جہاں دنیا بھر کے سیاح اس خطے سے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ سیاحت کاشوق رکھنے والے اور تاریخ سے لگائو رکھنے والوں کے لیے لوک ورثہ ایک مکمل پیکج کا کام کرتا ہے۔



لوک ورثہ ادارے کا بنیادی مقصد تحقیق ، میوزیالوجی، لوک آلاتِ موسیقی، میڈیا پروگرامز، فیلڈ ریکارڈنگ اور پاکستان کے سب سے بڑے لوک میلے کا انعقاد کرنا تھا۔ ایک دہائی کے اندر لوک ورثہ نے لوک داستانوں کو ایک ایسے کمپلیکس میں تبدیل کیا ہے جس کی جڑیں تہذیب و ثقافت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان نیشنل میوزیم آف ایتھنولوجی، لوک ورثہ میوزیم میں مجسموں ، مٹی کے برتنوں، دستکاریوں کا ایک بڑا ذخیرہ دکھایاگیا ہے جو پاکستان کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ملک کے تمام صوبوں اور یہاں بسنے والی نسلوں کی روایتی دستکاریاں شامل ہیں۔میوزیم کے مرکزی ہال میںنوادرات جس میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا، گندھارا، مہرگڑھ اور بھنبھور کی محبت بھری روایات کے رنگ نمایاں ہیں، کی نمائش شامل ہے۔

میلے کا بنیادی مقصدصوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ہوتا ہے جس میں کاریگروں اور فنکاروں کی مہارت کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ لوک میلے کی تقریب میں روزانہ تقریباً 15,000 سے20,000 افراد آتے ہیں جن میں غیر ملکی، سفارت کار، اعلیٰ سطحی عہدیدار اور سیاسی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔

لوک  ورثہ اسلام آبادمیں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے گزشتہ چار دہائیوں سے'' لوک میلہ'' کے نام سے مشہور ایک میگا ثقافتی تقریب کا انعقاد کرتا ہے۔ اس میلے کا مقصد روایتی فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ میلہ تمام صوبوں کی فعال شرکت کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو فروغ دے کر قومی یکجہتی کو تقویت اور مضبوط کرتا ہے۔میلے میں ہر سال ملک بھر سے سیکڑوں ماسٹردستکار، لوک فنکار اور لوک رقص کے گروپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو لے کر شرکت کرتے ہیں۔


 

مضمون 232 مرتبہ پڑھا گیا۔