اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
پیر، فروری 26، 2024 05:32
Advertisements

سعدیہ احسان

Advertisements

ہلال کڈز اردو

ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا

جنوری 2024

’’تمام طلباء سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے اسٹالز کے پاس چلے جائیں اور مودبانہ انداز میں پرنسپل صاحب کی آمد کا انتظار کریں۔ بس کچھ ہی دیر میں وہ آپ کے سامنے ہوں گے۔‘‘
مائیک پرایک گرجدار آواز گونجی جسے سننے کےبعد تمام طلباء نے مرکزی دروازے کی جانب نظریں جمالیں ۔  چند لمحوں میں کچھ اساتذہ کے ہمراہ پرنسپل صاحب ہال میں داخل ہوئے۔ سب نے انہیں خوش آمدید کہا۔ پرنسپل نے مسکرا کرسلام کا جواب دیا اور آگے بڑھ کر اپنی نشست پربیٹھ گئے۔
پورا ہال طلباء، ان کے والدین اور اساتذہ کرام سے کھچا کھچ بھرا تھا ۔ کالج میں سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ وہاں موجود طلباء اپنی گریجویشن مکمل کر چکے تھے ۔ آخری سمسٹر کے دوران انہیں سپیشلائزیشن آفر کی گئی تھی جس میں گروپ سٹڈی کے بعد مل جل کر ایک پراجیکٹ بنانا تھا۔ تمام طلباء خوش تھے کیونکہ انہوں نے خوب محنت کی تھی ۔ انہیں یقین تھا کہ آج ڈگری کے ساتھ ساتھ انہیں شاباش بھی ملے گی اور ایسا ہی ہوا۔
تھوڑی دیر کےبعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہدیہ نعت پیش کیا گیا جس کے بعد پرنسپل نے خطاب کیا ۔ انہوں نے طلباء کی تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر تعمیری سرگرمیوں کوبھی سراہا ۔
 تقریب کا آخری مرحلہ طلباءکے سجائے ہوئے اسٹالزکا معائنہ کرنا تھا۔ دورے کا آغاز ہواتو کچھ اساتذہ بھی پرنسپل کے ہمراہ ہو لیے۔
پہلا اسٹال ایسا تھاکہ اُسے دیکھتے ہی پرنسپل داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ وہاں موجود تمام طلباءکا تعلق آرٹس گروپ سے تھا ۔ انہیں ٹاسک دیا گیا تھاکہ وہ پاس آئوٹ ہونے والے تمام طلباء کو کوئی ایسا پیغام دیں جسے وہ زندگی بھریاد رکھیں۔ انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ بانیٔ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناحِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ ساتھ تحریکِ پاکستان کے دیگر سرکردہ رہنمائوں کے پورٹریٹ بنا کر آویزاں کیے تھے۔ساتھ ہی گتے کی ایک شیلف بنائی تھی جس میں ان کے بارے میں کتب اور تعلیمات پرمبنی چھوٹے کتابچے اور مضامین کو خوبصورتی کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ اس طرح انہوں نے کالج سے جانے والے تمام طلباءکو یہ پیغام دیاتھاکہ علم و حکمت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے وہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ مشاہیر کی تعلیمات اور افکار پر بھی عمل کریں۔ ایسا کرکے انہیں ایک تحریک ملے گی اور وہ ایک عزم کے ساتھ وقت کے نئے تقاضوں کے مطابق اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرسکیں گے۔ 
 انہیں شاباش دے کر پرنسپل آگے بڑھے توسامنے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلباء ان کے منتظر تھے۔ انہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں کچھ نمونے بنائے تھے جن میں بہت سے جدید کمرشل ڈرونز اور روبوٹس کے ساتھ ساتھ جدید طرز کا جنگی سازوسامان، طیارے اور ٹینک کے نمونے نمایاں تھے۔ طلباء پرنسپل کو اپنی ایجادات کے نمونوں کے بارےمیں بتا رہے تھے۔
اگلی باری تکنیکی اسٹال والوں کی تھی۔وہ سب انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔انہوں نے بھی اسی طرزکےکچھ ماڈلزاپنےاسٹال پر سجائے ہوئے تھےجن میں مختلف ڈیموں اور پُلوں کے نمونے، عمارات اور سولر سے چلنے والی مشینری کے نمونے شامل تھے جنہیں دیکھ کر ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔‘‘
پھر شعبہ طب سب کی توجہ کا مرکزتھا۔ اس اسٹال پرموجود طالب علموں نے ڈاکٹری لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔کسی نے اپنے گلے میں اسٹیتھوسکوپ لٹکائی ہوئی تھی تو کوئی خوردبین کے ذریعے کوئی ٹیسٹ کررہا تھا۔انہوں نے اپنےسامنے میز پرجدید طبی آلات بھی رکھے ہوئے تھے ۔ان کی محنت دیکھ کر سب کو گمان ہوتا تھا کہ وہ پاکستان کو طبی شعبے میں خود کفیل بنا نے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
معیشت کی بہتری کے حوالے سے پراجیکٹ اکنامکس کے طلباء کے پاس تھا۔ انہوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنےکے لیےنئے آئیڈیاز پر مبنی کچھ رپورٹس ترتیب دی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ اگر پاکستان صنعت و زراعت کے شعبوں پر توجہ دے تو ملکی معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کلین اینڈ گرین پاکستان اور صاف ستھرے ماحول کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پودوں کے کچھ گملے اپنے اسٹال پر رکھے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ ہی چند طلباء ری سائیکل پلانٹ پرری سائیکلنگ کرکے زیروویسٹ لائف اسٹائل کی جھلک پیش کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنےساتھ رنگ برنگے کوڑا دانوں میں پلاسٹک،کاغذ،گتے، شیشےاور دیگر کچرے کو ڈال کر حاضرین کو زیرو ویسٹ لائف اسٹائل اپنانے کی ترغیب دی ۔
 الغرض وہاں بہت کچھ ایسا تھا جو لائق تحسین تھا ۔ پرنسپل نے طلباء کی محنت دیکھی تو اسے بہت سراہا۔وہ ایک بار پھر سب کو مخاطب کرکے کہنے لگے: ’’مجھے معلوم ہے کہ آپ نے انتہائی جان فشانی سے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ آپ میں سے سب طلبا ذہانت میں ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مل کر ان تمام پراجیکٹس کومکمل کیا اور انہیں چارچاند لگا دیے۔ یہ کامیابی صرف اور صرف آپ کے اتحاد ویکجہتی ، ٹیم ورک اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے ادا کرنے کا نتیجہ ہے۔
 آپ کے ماڈلز کی صورت میں نئی ایجادات کا تصور ہمیں اقبا لؒ کا یہ شعر یاد دلا رہا ہے: 
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا 
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں 
 آپ بلاشبہ اقبالؒ کے وہ شاہیں ہیں جو جدید دنیا کے افق پر بلند پرواز کرتے ہوئے نئی منزلوں کی جستجو میں ہیں۔آپ کااتحاد ویکجہتی اور ایک دوسرے سے تعاون ہی ہمارے وطن کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔انشاءاللہ! آپ کی مشترکہ کوششیں ہمارے وطن کا مقدر بدل کررکھ دیں گی۔
 اگر ہم سب اسی طرح باہمی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ملکی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے رہے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارا ملک بہت جلدترقی کر لے گا۔اب آپ سب کا فریضہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں۔ ہمارے محبوب قائد محمد علی جناح نے بھی ہمیں یہی تلقین کی تھی ۔مجھے اُمید ہے کہ آپ کی کاوشوں کی بدولت بہت جلد دنیا آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کرے گی ۔ ہمیں آپ سب پر فخر ہے۔ شاباش !‘‘
تقریب کا اختتام ہو چکاتھا ۔ تمام طلباءخوشی خوشی گھروں کی طرف اس عزم کے ساتھ رواں دواں تھے کہ انہیں عملی زندگی میں ملت کے مقدر کا ستارابننا ہے۔ 
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا



 

مضمون 542 مرتبہ پڑھا گیا۔

سعدیہ احسان

Advertisements